Senior journalist leaves Karachi over life threat for disclosing terror camp

کراچی: دوماہ قبل کراچی میں دہشت گردی کےتربیتی کیمپ کارازافشاکرنےوالےایک سینیرصحافی کوقتل کی دھمکیاں ملنےپردوسرے شہرمنتقل کردیاگیاہےجہاں انہیں سخت سیکیورٹی دی جارہی ہے۔

بارہ ستمبر2011کوپولیس نےسہراب گوٹھ میں ایک مدرسےپرچھاپہ مارکرزنجیروں میں جکڑے56افرادکوبازیاب کرایاتھا۔پولیس کےایک سینیرافسرکےمطابق یہ افرادمدرسة العربیہ العلوم نامی ایک مدرسےکےبیسمنٹ سےبرآمدہوئےجسےمفتی داودنامی شخص چلارہاتھا۔چھاپےکےدوران مدرسےکےمالک مفتی داودفرارہوگیاجبکہ ان کےقریبی ساتھی قاری محمدعثمان کوگرفتارکرلیاگیا۔بازیاب کرائےگئےافرادنےانکشاف کیاکہ مدرسےمیں انہیں تشدداورجنسی زیادتی کانشانہ بنایاجاتاتھا۔انہیں دہشت گردی اورخودکش حملوں کی تربیت دی جاتی تھی اورگھروالوں سےملنےکی بھی اجازت نہیں تھی۔تاہم گرفتارہونےوالےقاری محمدعثمان نےان الزامات سےانکارکیا۔ان کاکہناتھاکہ مدرسےمیں موجودتمام افرادمنشیات کےعادی اورذہنی امراض میں مبتلاتھےجنہیں طبی امداددی جارہی تھی۔

یہ خبرپاکستانی اورغیرملکی میڈیاپرشہ سرخیوں کےساتھ شائع ہوئی۔پولیس کاکہناتھاکہ مدرسےپرچھاپہ ایک اطلاع پرماراگیاتاہم یہ واضح نہ ہوسکاکہ اطلاع کاذریعہ کیاتھا۔اس خبرکی اشاعت کےکئی ہفتوں بعدیہ بات سامنےآئی ہےکہ پولیس نےایک نجی ٹی وی کےسینیرپروڈیوسرکی اطلاع پرچھاپہ ماراتھا۔واقعےکےکچھ ہی دنوں بعددہشت گردوں کواس کاعلم ہوگیاجس پرانہوں نےمذکورہ پروڈیوسرکاتعاقب کرناشروع کردیا۔نجی ٹی وی نےپولیس کی مددسےپروڈیوسرکوروپوش کردیاہے۔یہ بھی معلوم ہواہےکہ مذکورہ پروڈیوسرکودوردرازکےعلاقےمیں منتقل کردیاگیاہےجنہیں جلددبئی یاکسی دوسرےملک منتقل کیاجائےگا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: